“My fingernails merge every wound, joining two into one; once eight or ten, now scratched raw, only four or five remain.”
ناخن کھرچ کر دو دو زخموں کو ملا کر ایک کر رہے ہیں؛ پہلے جو آٹھ دس زخم تھے، اب چھل کر چار پانچ رہ گئے ہیں۔
اس شعر میں جنونِ عشق اور خود اذیتی کی ایسی شدت بیان ہوئی ہے جہاں عاشق اپنے ناخنوں سے سینے کے زخموں کو کھرچ رہا ہے۔ چھیلنے کی وجہ سے دو دو زخم آپس میں مل کر ایک ہو گئے ہیں، چنانچہ زخموں کی گنتی تو کم ہو گئی مگر ان کی وسعت اور تکلیف دوگنی ہو گئی۔ یہ میر کا مخصوص درد بھرا انداز ہے جو بتاتا ہے کہ غم کی چوٹیں کس طرح مل کر انسان کو سر تا پا ایک نہ ختم ہونے والا ناسور بنا دیتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
