“Were I to lift and strike a heavy stone upon my head in bitter grief, ten or five pieces would my skull become, and of the rock some four or five.”
اگر ہم شدید رنج و غم کی حالت میں پتھر کی بھاری سل اٹھا کر اپنے سر پر مار لیں، تو ہمارے سر کے دس پانچ ٹکڑے ہو جائیں گے اور خود اس پتھر کے بھی چار پانچ ٹکڑے ہو جائیں گے۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے اندرونی رنج اور اضطراب کی شدت کو کمال کے شاعرانہ مبالغے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر شدید قلق اور بے قراری میں ہم اپنے سر پر بھاری پتھر ماریں، تو صرف ہمارا سر ہی پارہ پارہ نہیں ہوگا بلکہ اس ضرب کے جنون سے وہ سخت سل بھی ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ یہ دراصل دل کے اس بے پایاں الم کو ظاہر کرتا ہے جس کی تلخی اور تپش بے جان چٹانوں کو بھی پاش پاش کر دینے کی قوت رکھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
