“Anguish, torment, sorrow and grief, despair, ache, and scar; Sighs and laments—these few alone the heart's companions are.”
رنج، تکلیف، مصیبت، غم، مایوسی، درد، داغ، آہ اور فریاد—یہی سب دل کے گنے چنے ساتھی ہیں۔
شاعر نے رنج، مصیبت، درد، داغ اور آہوں کی ایک لمبی فہرست گنوا کر کمالِ ظرافت اور درد بھرے طنز سے کہا ہے کہ میرے دل کے بس یہی 'چار پانچ' رفیق ہیں۔ اس شعر کا سارا حسن اس الم ناک سچائی میں پوشیدہ ہے کہ جب دنیا منہ موڑ لیتی ہے، تو انسان کے غم ہی اس کے سب سے باوفا ساتھی بن جاتے ہیں۔ دکھوں کے اس ہجوم کو محض گنتی کے چند دوست کہنا دراصل غم کی انتہا اور دل کی تنہائی کو ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
