“Two are the paths, known as the worldly and the divine; to love's destination, there are no four or five roads.”
عشق کی منزل تک پہنچنے کے صرف دو ہی راستے ہیں جن کے نام مجاز اور حقیقت ہیں، اس کے کوئی چار پانچ راستے نہیں ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے عشق کے پرپیچ سفر کو بڑی سادگی سے صرف دو واضح راستوں میں سمیٹ دیا ہے: ایک عشقِ مجازی اور دوسرا عشقِ حقیقی۔ وہ فرماتے ہیں کہ محبت کی منزل تک پہنچنے کے لیے درجنوں الجھی ہوئی راہیں نہیں ہیں، بلکہ یہ انتخاب بالکل سیدھا اور دو ٹوک ہے۔ صوفیانہ روایت میں انسان سے سچی محبت ہی دراصل وہ پُل بنتی ہے جو سالک کو خدا کے لازوال عشق تک لے جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
