“Farhad, Qais, Wamiq, and Azra were once a band of four; now that I too have joined their rank, we make some four or five.”
فرہاد، قیس، وامق اور عذرا چار دوست ہوا کرتے تھے۔ اب میں بھی ان میں شامل ہو گیا ہوں تو ہم سب مل کر چار پانچ ہو گئے ہیں۔
شاعر یہاں بڑے شوخ اور دلکش انداز میں اپنا شمار تاریخ کے مشہور دیوانوں یعنی فرہاد، قیس، وامق اور عذرا کی صف میں کر رہا ہے۔ وہ کمالِ ظرافت سے کہتا ہے کہ اب عشق کی اس ویرانی میں میرا بھی اضافہ ہو گیا ہے، تو مل ملا کر ہم جیسے عاشقوں کی گنتی چار پانچ ہو گئی ہے۔ اس شعر میں اپنی بربادی پر آنسو بہانے کے بجائے ایک دھیمی سی مسکراہٹ اور دیوانگی کی اس برادری میں شامل ہونے کا لطیف احساس جھلکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
