غزل

ہنگامہ گرم ہستی ناپائدار کا

ہنگامہ گرم ہستی ناپائدار کا
شیخ ابراہیم ذوق· Ghazal· 14 shers

Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हंगामा गर्म हस्ती-ए-नापायदार का चश्मक है बर्क़ की कि तबस्सुम शरार का
ہنگامہ گرم ہستی ناپائدار کا چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا
اِس ناپائدار ہستی کا ہنگامہ گرم ہے؛ یہ گویا بجلی کی چشمک ہے یا چنگاری کا تبسم ہے۔
2
मैं जो शहीद हूँ लब-ए-ख़न्दान-ए-यार का क्या क्या चराग़ जलता है मेरे मज़ार का
میں جو شہید ہوں لب خندان یار کا کیا کیا چراغ جلتا ہے میرے مزار کا
میں جو اپنے محبوب کے مسکراتے ہونٹوں پر شہید ہوا ہوں، تو میری قبر پر کیسے کیسے چراغ روشن ہوتے ہیں۔
3
हो राज़-ए-दिल न यार से पोशीदा यार का पर्दा जो दरमियाँ हो दिल के ग़ुबार का
ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا پردہ جو درمیاں ہو دل کے غبار کا
دل کا راز دوست سے دوست ہی کے سبب پوشیدہ نہ رہے، اگر دل کے غبار کا کوئی پردہ اُن کے درمیان حائل ہو جائے۔
4
आता है गर तो आओ कि सीने से हलके अब आँखों में आके ठहरा है दम इंतज़ार का
آتا ہے گر تو آؤ کہ سینے سے ہلکے اب آنکھوں میں آکے ٹھہرا ہے دم انتظار کا
اگر تمہیں آنا ہی ہے تو اب آ جاؤ، کہ میرے انتظار کی سانس سینے سے نکل کر آنکھوں میں آ کر ٹھہر گئی ہے۔
5
हो पाक-दामनों को ख़लिश गर है क्या ख़तर खटका नहीं निगाह को मिज़गान के ख़ार का
ہو پاکدامنوں کو خلش گر ہے کیا خطر کھٹکا نہیں نگاہ کو مژگان کے خار کا
اگر پاکدامنوں کو کوئی خلش محسوس ہو تو اس میں کیا خطر ہے؟ آنکھ کو پلکوں کے کانٹے سے کوئی کھٹکا نہیں ہوتا۔
6
पूछे है क्या हलावत-ए-तल्ख़ाबा-ए-सरिश्क शर्बत है बाग़-ए-ख़ुल्द-ए-बरीं के अनार का
پوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشک شربت ہے باغ خلد بریں کے انار کا
ان کڑوے کھارے آنسوؤں کی مٹھاس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو؟ یہ تو اعلیٰ ترین جنت کے باغ کے انار کا شربت ہیں۔
7
पहुँचेगा तेरे पास कबूतर से पेशतर मक्तूब-ए-शौक़ उड़ के तिरे बेक़रार का
پہونچے گا تیرے پاس کبوتر سے پیشتر مکتوب شوق اڑ کے ترے بیقرار کا
تیرے پاس کبوتر سے بھی پہلے پہنچ جائے گا—اڑ کر آتا ہوا تیرے بے قرار عاشق کا محبت بھرا خط۔
8
है ऐन-ए-वस्ल में भी मिरी आँख सू-ए-दर चस्का जो पड़ गया है मुझे इंतज़ार का
ہے عین وصل میں بھی مری آنکھ سوے در چسکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا
وصل کے عین لمحے میں بھی میری آنکھ دروازے کی طرف لگی رہتی ہے، کیونکہ مجھے انتظار کرنے کی ایسی لت پڑ گئی ہے۔
9
क़ासिद लिखूँ लिफ़ाफ़ा को ख़त-ए-ग़ुबार से ता जाने वो यह ख़त है किसी ख़ाकसार का
قاصد لکھوں لفافہ کو خط غبار سے تا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا
اے قاصد، میں لفافے کو خطِ غبار (مہین دھول جیسی تحریر) میں لکھوں، تاکہ وہ جان لے کہ یہ خط کسی خاکسار کا ہے۔
10
देख अपने दुर-ए-गोश को आरिज़ के मुत्तसिल देखा न हो सितारा जो सुब्ह-ए-बहार का
دیکھ اپنے دُر گوش کو عارض کے متصل دیکھا نہو ستارہ جو صبح بہار کا
اپنے کان کے موتی کو گال کے پاس لگا ہوا دیکھو، گویا کسی نے بہار کی صبح کا ستارہ کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔
11
है दिल की दाँव घात में मिज़गान-ए-चश्म-ए-यार करती है क़स्द टट्टी की ओझल शिकार का
ہے دلکی داؤ گھات میں مژگان چشم یار کرتی ہے قصد ٹٹی کی اوجھل شکار کا
یار کی آنکھوں کی پلکیں دل کو گھات لگا کر تاک رہی ہیں؛ وہ شکاری کی اوٹ کی طرح چھپ کر اپنے شکار پر وار کرنے کا قصد کرتی ہیں۔
12
बुझने की दिल की आग नहीं ज़ेर-ए-ख़ाक भी होगा दरख़्त गोर पे मेरी चनार का
بجھنے کی دلکی آگ نہیں زیر خاک بھی ہوگا درخت گور پہ میری چنار کا
دل کی آگ خاک کے نیچے بھی نہیں بجھے گی؛ میری قبر پر چنار کا درخت اُگے گا۔
13
उस रू-ए-ताबनाक पे हर क़तरा-ए-अरक़ गोया कि एक सितारा है सुब्ह-ए-बहार का
اُس روے تابناک پہ ہر قطرۂ عرق گویا کہ ایک ستارہ ہے صبح بہار کا
اُس چمکتے ہوئے چہرے پر پسینے کا ہر قطرہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ بہار کی صبح کا کوئی ستارہ ہو۔
14
ऐ ज़ौक़ गर हैं होश तो दुनिया से दूर भाग इस मयकदे में काम नहीं होशियार का
اے ذوق گر ہیں ہوش تو دنیا سے دور بھاگ اس میکدے میں کام نہیں ہوشیار کا
اے ذوق، اگر تم میں ہوش ہے تو اس دنیا سے دور بھاگ جاؤ، کیونکہ اس میکدے میں ہوشیار آدمی کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.