ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا — شیخ ابراہیم ذوق
“Let the heart's secret not stay hidden from the friend by the friend, if a veil, made of the heart's dust and grief, should come between.”
معنی
دل کا راز دوست سے دوست ہی کے سبب پوشیدہ نہ رہے، اگر دل کے غبار کا کوئی پردہ اُن کے درمیان حائل ہو جائے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کی خواہش ہے کہ دل کا راز یار سے پوشیدہ نہ رہے، چاہے دونوں کے درمیان دل کے غبار یعنی رنجش اور شکوے کا کوئی پردہ ہی کیوں نہ حائل ہو۔ یہاں 'غبار' وہ گرد ہے جو دوری اور ناراضی سے دل پر جم جاتی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ یہ پردہ بھی دلوں کو اتنا جدا نہ کرے کہ سچائی اور محبت کی بات کہی ہی نہ جا سکے — سچی چاہت میں دل کھلا رہنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
