میں جو شہید ہوں لب خندان یار کا — شیخ ابراہیم ذوق

میں جو شہید ہوں لب خندان یار کا کیا کیا چراغ جلتا ہے میرے مزار کا

“I, who am martyred by the smiling lips of my beloved— oh, what a lamp burns bright upon the grave of mine.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میں جو اپنے محبوب کے مسکراتے ہونٹوں پر شہید ہوا ہوں، تو میری قبر پر کیسے کیسے چراغ روشن ہوتے ہیں۔

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ میں تو محبوب کے مسکراتے ہونٹوں کا شہید ہوں — وہی دلکش مسکراہٹ میری فنا کا سبب بنی۔ اور دیکھو، عشق میں مٹ جانے کے بعد میری قبر پر کیسا نورانی چراغ روشن ہے، گویا وہی مسکراہٹ آج بھی چمک رہی ہو۔ یہاں 'چراغ' عشق میں جان دینے کی اُس شان کی علامت ہے، جہاں موت بھی ایک عزت اور روشنی بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.