آتا ہے گر تو آؤ کہ سینے سے ہلکے اب — شیخ ابراہیم ذوق
“If you are to come, then come, for now, slipping from my breast, The breath of waiting has risen to my eyes and there found rest”
معنی
اگر تمہیں آنا ہی ہے تو اب آ جاؤ، کہ میرے انتظار کی سانس سینے سے نکل کر آنکھوں میں آ کر ٹھہر گئی ہے۔
تشریح
اس شعر میں انتظار کی اس کیفیت کو نہایت نزاکت سے بیان کیا گیا ہے جہاں جان لبوں تک نہیں بلکہ آنکھوں تک آ پہنچی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر آنا ہے تو اب آ جاؤ، کیونکہ میری سانس سینے سے ہلکی ہو کر آنکھوں میں آ ٹھہری ہے — اور آنکھوں کا ذکر اس لیے بھی خوبصورت ہے کہ انتظار تو وہی کرتی ہیں۔ یہ عشق و فراق کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک لمحے کی تاخیر بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
