ہو پاکدامنوں کو خلش گر ہے کیا خطر — شیخ ابراہیم ذوق

ہو پاکدامنوں کو خلش گر ہے کیا خطر کھٹکا نہیں نگاہ کو مژگان کے خار کا

“If the pure of skirt should feel a pricking, what's the danger here? The eye takes no alarm at the thorn of the eyelashes near.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

اگر پاکدامنوں کو کوئی خلش محسوس ہو تو اس میں کیا خطر ہے؟ آنکھ کو پلکوں کے کانٹے سے کوئی کھٹکا نہیں ہوتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک نازک اور گہری بات کہتے ہیں کہ جو لوگ پاکدامن اور صاف دل ہیں، انہیں اگر کوئی ہلکی سی خلش بھی محسوس ہو تو اس سے کیا خطرہ؟ جیسے آنکھ کو اپنی ہی پلکوں کے کانٹوں سے کوئی کھٹکا یا ڈر نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اسی کا حصہ ہیں۔ مطلب یہ کہ جو اندر سے پاک ہو، اس کے قریب کی چبھنیں بھی اسے نقصان نہیں پہنچاتیں، بلکہ وہ اسی کے اپنے ہوتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.