پوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشک — شیخ ابراہیم ذوق
“Why ask about the sweetness of these bitter-briny tears? They are the sherbet of the pomegranate from the garden of the highest paradise.”
معنی
ان کڑوے کھارے آنسوؤں کی مٹھاس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو؟ یہ تو اعلیٰ ترین جنت کے باغ کے انار کا شربت ہیں۔
تشریح
یہاں شاعر آنسوؤں کی اُس کڑوی نمکین مٹھاس کی بات کرتا ہے جسے صرف دردمند دل ہی سمجھ سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اِن آنسوؤں کا ذائقہ مت پوچھو، یہ تو جنتِ بریں کے باغ کے انار کا شربت ہیں۔ کمال یہ ہے کہ غم کے تلخ آنسو عاشق کے لیے سب سے میٹھی چیز بن جاتے ہیں۔ اِس میں یہ گہرا احساس چھپا ہے کہ عشق میں تکلیف بھی ایک نعمت اور ایک لذت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
