قاصد لکھوں لفافہ کو خط غبار سے — شیخ ابراہیم ذوق

قاصد لکھوں لفافہ کو خط غبار سے تا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا

“Messenger, let me pen the envelope in dust-fine script, so he may know this letter comes from one brought low as dust.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

اے قاصد، میں لفافے کو خطِ غبار (مہین دھول جیسی تحریر) میں لکھوں، تاکہ وہ جان لے کہ یہ خط کسی خاکسار کا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے قاصد سے کہتا ہے کہ لفافے کو 'خطِ غبار' یعنی باریک، گرد جیسی مہین تحریر سے لکھو۔ کمال یہ ہے کہ 'غبار' ایک طرح کی بہت چھوٹی لکھائی بھی ہے اور گرد کا نام بھی — دونوں معنی یہاں مل جاتے ہیں۔ عاشق کی عاجزی دیکھیے کہ وہ چاہتا ہے محبوب پہلی ہی نظر میں جان لے کہ یہ خط کسی خاکسار، یعنی گرد کے برابر عاجز اور ناچیز شخص کا ہے۔ گرد جیسی تحریر اور گرد جیسا بھیجنے والا — عشق میں خود کو مٹا دینے کی کتنی پیاری تصویر ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.