دیکھ اپنے دُر گوش کو عارض کے متصل — شیخ ابراہیم ذوق
“Behold your ear-pearl resting close against your cheek— as though none ever saw the morning-star of spring's own dawn.”
معنی
اپنے کان کے موتی کو گال کے پاس لگا ہوا دیکھو، گویا کسی نے بہار کی صبح کا ستارہ کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔
تشریح
شاعر اپنی محبوبہ سے کہتا ہے کہ ذرا دیکھ، تیرے کان کا موتی تیرے عارض سے لگا ہوا یوں چمک رہا ہے جیسے کسی نے بہار کی صبح کا ستارہ ہی نہ دیکھا ہو۔ موتی کی سفیدی اور گال کی سرخی مل کر صبحِ بہار کے روشن تارے کا سماں باندھ دیتے ہیں۔ یہ نازک تشبیہ بتاتی ہے کہ محبوب کا حسن قدرت کے حسین ترین منظر سے بھی بڑھ کر ہے، کہ جانی پہچانی چیز بھی ایک نیا عجوبہ بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
