ہے عین وصل میں بھی مری آنکھ سوے در — شیخ ابراہیم ذوق
“Even in the very moment of union, my eyes turn toward the door— such is the habit of waiting that has taken hold of me.”
معنی
وصل کے عین لمحے میں بھی میری آنکھ دروازے کی طرف لگی رہتی ہے، کیونکہ مجھے انتظار کرنے کی ایسی لت پڑ گئی ہے۔
تشریح
ذرا تصور کیجیے، وصل کا وہ لمحہ سامنے ہے جس کا برسوں انتظار تھا، مگر آنکھیں پھر بھی دروازے کی طرف اٹھی جا رہی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ انتظار کی عادت اتنی گہری ہو چکی ہے کہ وہ ملن میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔ یہ بڑی نازک بات ہے—کہ کبھی کبھی کسی چیز کا انتظار ہماری فطرت کا ایسا حصہ بن جاتا ہے کہ پانے کے بعد بھی وہ بے چینی اور طلب باقی رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
