غزل

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر
نظم طباطبائی· Ghazal· 15 shers· radif: हो कर

یہ غزل دل کے پوشیدہ رازوں کے برملا اظہار اور روحانی و وجودی سفر کی داستان بیان کرتی ہے۔ شاعر نے ہنسی مذاق میں وہ گہری بات کہہ کر محبوب کو حیرت زدہ کر دیا ہے، ساتھ ہی اپنے عزم اور سفر کے ہر مرحلے کو بامعنی اور پر اثر انداز میں پیش کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हँसी में वो बात मैं ने कह दी कि रह गए आप दंग हो कर छुपा हुआ था जो राज़ दिल में खुला वो चेहरे का रंग हो कर
ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر چھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کر
میں نے ہنسی مذاق میں وہ بات کہہ دی جس سے آپ حیران رہ گئے، اور جو راز دل میں چھپا ہوا تھا وہ آپ کے چہرے کے رنگ سے ظاہر ہو گیا۔
2
हमेशा कूच ओ मक़ाम अपना रहा है ख़िज़्र-ए-रह-ए-तरीक़त रुका तो मैं संग-ए-मील बन कर चला तो आवाज़-ए-चंग हो कर
ہمیشہ کوچ و مقام اپنا رہا ہے خضر رہ طریقت رکا تو میں سنگ میل بن کر چلا تو آواز چنگ ہو کر
طریقت کے راستے پر میرا چلنا اور ٹھہرنا ہمیشہ رہنمائی کا سبب رہا ہے؛ جب میں رکا تو سنگِ میل بن گیا اور جب چلا تو چنگ کی آواز بن کر راستہ دکھایا۔
3
न तोड़ते आरसी अगर तुम तो इतने यूसुफ़ नज़र न आते ये क़ाफ़िला खींच लाई सारा शिकस्त-ए-आईना ज़ंग हो कर
نہ توڑتے آرسی اگر تم تو اتنے یوسف نظر نہ آتے یہ قافلہ کھینچ لائی سارا شکست آئینہ زنگ ہو کر
اگر تم آئینہ نہ توڑتے تو اتنے یوسف نظر نہ آتے؛ آئینے کا ٹوٹنا کارواں کی گھنٹی بن کر اس پورے قافلے کو یہاں کھینچ لایا ہے۔
4
शबाब ओ पीरी का आना जाना ग़ज़ब का पुर-दर्द है फ़साना ये रह गई बन के गर्द-ए-हसरत वो उड़ गया रुख़ से रंग हो कर
شباب و پیری کا آنا جانا غضب کا پر درد ہے فسانہ یہ رہ گئی بن کے گرد حسرت وہ اڑ گیا رخ سے رنگ ہو کر
جوانی کا رخصت ہونا اور بڑھاپے کا آنا ایک نہایت دردناک داستان ہے؛ بڑھاپا حسرتوں کی گرد بن کر رہ گیا اور جوانی چہرے سے رنگ کی طرح اڑ گئی۔
5
जो राज़ दिल से ज़बाँ तक आया तो उस को क़ाबू में फिर न पाया ज़बाँ से निकला कलाम बन कर कमाँ से छूटा ख़दंग हो कर
جو راز دل سے زباں تک آیا تو اس کو قابو میں پھر نہ پایا زباں سے نکلا کلام بن کر کماں سے چھوٹا خدنگ ہو کر
جب کوئی راز دل سے زبان پر آ جائے تو پھر اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہتا؛ وہ بات بن کر زبان سے یوں نکل جاتا ہے جیسے کمان سے تیر چھوٹ جائے۔
6
ग़ज़ब है बहर-ए-फ़ना का धारा कि मुझ को उलझा के मारा मारा नफ़स ने मौजों का जाल बुन कर लहद ने काम-ए-नहंग हो कर
غضب ہے بحر فنا کا دھارا کہ مجھ کو الجھا کے مارا مارا نفس نے موجوں کا جال بن کر لحد نے کام نہنگ ہو کر
فنا کے سمندر کی دھار بہت غضب ناک ہے جس نے مجھے الجھا کر ہلاک کر دیا؛ سانس نے موجوں کا جال بن دیا اور قبر مگرمچھ کے جبڑے کی مانند بن گئی۔
7
मिला दिल-ए-ना-हिफ़ाज़ मुझ को तो क्या किसी का लिहाज़ मुझ को कहीं गरेबाँ न फाड़ डालें जनाब-ए-नासेह भी तंग हो कर
ملا دل نا حفاظ مجھ کو تو کیا کسی کا لحاظ مجھ کو کہیں گریباں نہ پھاڑ ڈالیں جناب ناصح بھی تنگ ہو کر
جب مجھے ایک بے قابو اور بے باک دل ملا ہے تو مجھے کسی کا کیا لحاظ ہو۔ اندیشہ ہے کہ ناصح بھی مجھ سے تنگ آ کر اپنا ہی گریبان نہ پھاڑ ڈالیں۔
8
जो अब की मीना-ए-मय को तोड़ा चलेगी तलवार मोहतसिब से लहू भी रिंदों का देख लेना बहा मय-ए-लाला-रंग हो कर
جو اب کی مینائے مے کو توڑا چلے گی تلوار محتسب سے لہو بھی رندوں کا دیکھ لینا بہا مئے لالہ رنگ ہو کر
اگر اس بار محتسب نے شراب کی صراحی توڑی تو اس سے تلوار چلے گی، اور دیکھ لینا کہ رندوں کا خون بھی لال شراب بن کر بہہ نکلے گا۔
9
न ज़ब्त से शिकवा लब तक आया न सब्र ने आह खींचने दी रहा दहन में वो क़ुफ़्ल बन कर गिराया छाती पे संग हो कर
نہ ضبط سے شکوہ لب تک آیا نہ صبر نے آہ کھینچنے دی رہا دہن میں وہ قفل بن کر گرایا چھاتی پہ سنگ ہو کر
ضبط کے سبب نہ کوئی شکوہ لبوں تک آیا اور نہ صبر نے آہ بھرنے دی، وہ دکھ منہ میں تالا بن کر رہا اور سینے پر پتھر بن کر گرا رہا۔
10
समझ ले सूफ़ी अगर ये नुक्ता है एक बज़्म-ए-समा-ए-हस्ती तो नौ-पियाले ये आसमाँ के बजें अभी जल-तरंग हो कर
سمجھ لے صوفی اگر یہ نکتہ ہے ایک بزم سماع ہستی تو نو پیالے یہ آسماں کے بجیں ابھی جل ترنگ ہو کر
اگر صوفی اس باریک بات کو سمجھ لے کہ یہ کائنات اور ہستی سماع کی ایک محفل ہے، تو آسمان کے یہ نو پیالے ابھی جل ترنگ بن کر بجنے لگیں گے۔
11
भला हो अफ़्सुर्दा-ख़ातिरी का कि हसरतों को दबा के रक्खा बचा लिया हरज़गी से उस ने लिहाज़-ए-नामूस-ओ-नंग हो कर
بھلا ہو افسردہ خاطری کا کہ حسرتوں کو دبا کے رکھا بچا لیا ہرزگی سے اس نے لحاظ ناموس و ننگ ہو کر
میرے دل کی اداسی اور افسردگی کا بھلا ہو جس نے حسرتوں کو دبا کر رکھا؛ اس نے عزت اور شرم و حیا کا پاس رکھتے ہوئے مجھے آوارگی اور بدنامی سے بچا لیا۔
12
जिगर-ख़राशी से पाई फ़ुर्सत न सीना-कावी से नाख़ुनों ने गला गरेबाँ ने घूँट डाला जुनूँ की शोरिश से तंग हो कर
جگر خراشی سے پائی فرصت نہ سینہ کاوی سے ناخنوں نے گلا گریباں نے گھونٹ ڈالا جنوں کی شورش سے تنگ ہو کر
ناخنوں کو جگر چھیلنے اور سینہ چیرنے سے کبھی فرصت نہ ملی۔ دیوانگی کے اس ہنگامے سے تنگ آ کر خود گریبان نے ہی گلا گھونٹ دیا۔
13
बदल के दुनिया ने भेस सदहा इसे डराया उसे लुभाया कभी ज़न-ए-पीर-ज़ाल बन कर कभी बुत-ए-शोख़-ओ-शंग हो कर
بدل کے دنیا نے بھیس صدہا اسے ڈرایا اسے لبھایا کبھی زن پیر زال بن کر کبھی بت شوخ و شنگ ہو کر
دنیا نے سینکڑوں روپ بدل کر انسان کو کبھی خوفزدہ کیا اور کبھی اپنی طرف مائل کیا، کبھی وہ ایک بوڑھی عورت بن کر سامنے آئی اور کبھی ایک شوخ و چنچل محبوبہ بن کر۔
14
उठे थे तलवार खींच कर तुम तो फिर तअम्मुल न चाहिए था कि रह गई मेरे दिल की हसरत शहीद-ए-तेग़-ए-दरंग हो कर
اٹھے تھے تلوار کھینچ کر تم تو پھر تأمل نہ چاہئے تھا کہ رہ گئی میرے دل کی حسرت شہید تیغ درنگ ہو کر
جب تم تلوار کھینچ کر اٹھ ہی کھڑے ہوئے تھے تو پھر تمہیں ہچکچانا نہیں چاہیے تھا۔ تمہاری اس تاخیر کی وجہ سے تمہارے ہاتھوں قتل ہونے کی میرے دل کی حسرت محض انتظار کی نذر ہو کر رہ گئی۔
15
जो वलवले थे वो दब गए सब हुजूम-ए-लैत-ओ-लअल में 'हैदर' जो हौसले थे वो दिल ही दिल में रहे दरेग़-ओ-दरंग हो कर
جو ولولے تھے وہ دب گئے سب ہجوم لیت و لعل میں حیدرؔ جو حوصلے تھے وہ دل ہی دل میں رہے دریغ و درنگ ہو کر
اے حیدرؔ، تمام جوش اور ولولے ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کے ہجوم میں دب گئے، اور سارے حوصلے حسرت اور تاخیر بن کر دل ہی دل میں رہ گئے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.