سمجھ لے صوفی اگر یہ نکتہ ہے ایک بزم سماع ہستی تو نو پیالے یہ آسماں کے بجیں ابھی جل ترنگ ہو کر

“If the Sufi would but grasp this subtle truth—that existence is a mystic concert of ecstatic song—then these nine sky-bowls would ring out at once, chiming like a jal-tarang.”

— نظم طباطبائی
معنی

اگر صوفی اس باریک بات کو سمجھ لے کہ یہ کائنات اور ہستی سماع کی ایک محفل ہے، تو آسمان کے یہ نو پیالے ابھی جل ترنگ بن کر بجنے لگیں گے۔

تشریح

شاعر صوفی کو حیات اور کائنات کا ایک دلنشین راز سمجھاتے ہیں کہ یہ ہستی محض بے کیفی یا تیاگ کا نام نہیں، بلکہ وجد اور نغمگی کی ایک بزم ہے۔ اگر صوفی اس نکتے کی تہہ تک پہنچ جائے تو آسمان کے نو افلاک فوراً جل ترنگ کے پیالے بن کر گنگنانے لگیں گے۔ گویا دیدۂ بینا نصیب ہو تو ساری کائنات ایک مدھر اور الٰہی ساز کی طرح بجتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.