جو راز دل سے زباں تک آیا تو اس کو قابو میں پھر نہ پایا زباں سے نکلا کلام بن کر کماں سے چھوٹا خدنگ ہو کر

“Once a secret passed from heart to tongue, no restraint could hold it back again; it flew from the lips as spoken words, like an arrow loosed from a bow.”

— نظم طباطبائی
معنی

جب کوئی راز دل سے زبان پر آ جائے تو پھر اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہتا؛ وہ بات بن کر زبان سے یوں نکل جاتا ہے جیسے کمان سے تیر چھوٹ جائے۔

تشریح

یہ شعر دل کے راز اور الفاظ کی بے قابو طاقت کو بے حد خوبصورت تمثیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تک کوئی بات دل کے نہاں خانے میں ہو، محفوظ رہتی ہے، مگر جیسے ہی لبوں پر آئے تو اس پر کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ زبان سے نکلے ہوئے بول کی مثال کمان سے چھوٹے ہوئے تیر کی طرح ہے، جو ایک بار چل جائے تو پھر اسے کبھی واپس نہیں بلایا جا سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.