شباب و پیری کا آنا جانا غضب کا پر درد ہے فسانہ یہ رہ گئی بن کے گرد حسرت وہ اڑ گیا رخ سے رنگ ہو کر

“The coming and going of youth and age is a tale of piercing grief: one stayed behind as the dust of longing, the other fled like the blush from the cheek.”

— نظم طباطبائی
معنی

جوانی کا رخصت ہونا اور بڑھاپے کا آنا ایک نہایت دردناک داستان ہے؛ بڑھاپا حسرتوں کی گرد بن کر رہ گیا اور جوانی چہرے سے رنگ کی طرح اڑ گئی۔

تشریح

یہ شعر وقت کی بے رحمی اور جوانی کے بچھڑ جانے کے گہرے دکھ کو بڑی خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔ شاعر شباب کے رخصت ہونے کو چہرے کی رنگت اڑ جانے سے تشبیہ دیتا ہے، جبکہ بڑھاپے کو حسرتوں کی وہ راکھ اور گرد قرار دیا ہے جو روح پر جم کر رہ گئی۔ یہ دراصل ڈھلتی عمر کی وہ خاموش اداسی ہے جہاں انسان مڑ کر دیکھے تو ہاتھ میں صرف ادھورے خواب اور ان کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.