“Bless this melancholy of heart, which kept my wild desires suppressed; by standing guard over honor and shame, it spared me from wandering in disgrace.”
میرے دل کی اداسی اور افسردگی کا بھلا ہو جس نے حسرتوں کو دبا کر رکھا؛ اس نے عزت اور شرم و حیا کا پاس رکھتے ہوئے مجھے آوارگی اور بدنامی سے بچا لیا۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے دل کی افسردگی کا شکر ادا کیا ہے، جس نے بے باک خواہشات اور حسرتوں کو دبا کر رکھا۔ اگر یہ ارمان بے لگام ہو جاتے تو شاید انسان بے راہ روی اور بدنامی کے گڑھے میں گر جاتا، مگر دل کے اس ملال نے غیرت اور حیا کی لاج رکھ لی۔ بظاہر یہ اداسی ایک بوجھ ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کے وقار اور خودداری کی حفاظت کرنے والی ڈھال بن گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
