جو اب کی مینائے مے کو توڑا چلے گی تلوار محتسب سے لہو بھی رندوں کا دیکھ لینا بہا مئے لالہ رنگ ہو کر

“If he shatters the wine-flask this time, swords shall clash with the censor's hand; / Behold how the revellers' blood will flow, turned to tulip-red wine across the land.”

— نظم طباطبائی
معنی

اگر اس بار محتسب نے شراب کی صراحی توڑی تو اس سے تلوار چلے گی، اور دیکھ لینا کہ رندوں کا خون بھی لال شراب بن کر بہہ نکلے گا۔

تشریح

شاعر یہاں سماج کے نام نہاد نگران یعنی محتسب کو للکار رہا ہے، جو رندوں کے ذوق اور آزادیٔ فکر پر پہرے بٹھانا چاہتا ہے۔ وہ خبردار کرتا ہے کہ اب کی بار اگر پیمانے پر ضرب لگی تو بات تلواروں تک جائے گی، مگر کمال کی بات رندوں کی خود سپردگی ہے۔ ان کا بہتا ہوا لہو بھی مئے لالہ رنگ بن کر چھلکے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ دار و رسن کی دھمکیوں سے عشق اور سرکشی کا یہ نشہ کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.