“My nails found no respite from tearing the heart, nor from raking the chest; / Weary of madness's wild uproar, the collar itself choked the throat.”
ناخنوں کو جگر چھیلنے اور سینہ چیرنے سے کبھی فرصت نہ ملی۔ دیوانگی کے اس ہنگامے سے تنگ آ کر خود گریبان نے ہی گلا گھونٹ دیا۔
اس شعر میں جنونِ عشق کی شدت کو ایک لاجواب شوخی اور درد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ عاشق کا جنون اس قدر بے قابو ہے کہ اس کے ناخن مسلسل سینہ چھلنی کرنے اور دل کو زخمی کرنے میں مصروف ہیں، جنہیں ایک پل بھی قرار نہیں۔ عاشق کی اس روز روز کی نوچ کھسوٹ اور ہنگامہ آرائی سے تنگ آ کر بالآخر اس کے اپنے گریبان نے ہی اس کا گلا گھونٹ دیا تاکہ اس بے پایاں اذیت کا خاتمہ ہو سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
