“All ardent passions were smothered, O Haidar, amid a crowd of excuses and delay; all bold resolves remained confined to the heart, reduced to sorrow and hesitation.”
اے حیدرؔ، تمام جوش اور ولولے ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کے ہجوم میں دب گئے، اور سارے حوصلے حسرت اور تاخیر بن کر دل ہی دل میں رہ گئے۔
اس شعر میں شاعر نے انسانی زندگی کے اس المیے کو سادگی سے بیان کیا ہے کہ کس طرح ہمارے بلند عزائم محض ٹال مٹول اور پس و پیش کی نذر ہو جاتے ہیں۔ دل میں کچھ کر گزرنے کے جو ولولے اور امنگیں تھیں، وہ لیت و لعل کے ہجوم میں دب کر دم توڑ گئیں۔ وہ سارے حوصلے جو طوفان برپا کر سکتے تھے، عمل کے میدان میں نہ اتر سکے اور دل ہی دل میں حسرت اور پچھتاوا بن کر رہ گئے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
