“My halts and journeys ever served as a guide upon the Mystic Way: when I paused, I stood as a milestone; when I moved, the ringing music of a harp.”
طریقت کے راستے پر میرا چلنا اور ٹھہرنا ہمیشہ رہنمائی کا سبب رہا ہے؛ جب میں رکا تو سنگِ میل بن گیا اور جب چلا تو چنگ کی آواز بن کر راستہ دکھایا۔
شاعر اپنے روحانی سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا ٹھہرنا اور چلنا، دونوں ہی راہیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے رہے۔ جب وہ رکے تو سنگِ میل بن کر بھٹکے ہوئے مسافروں کو سمت اور منزل کا پتہ دیا، اور جب آگے بڑھے تو ساز کی میٹھی آواز بن کر قافلے میں نئی جان پھونک دی۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ ایک باعمل انسان کا سکوت بھی دنیا کے لیے روشنی بنتا ہے اور اس کا سفر بھی دوسروں کے لیے ترانہ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
