“Assuming a hundred disguises, the world frightened one and tempted another; appearing sometimes as a decrepit crone, and at times as a playful, coquettish idol.”
دنیا نے سینکڑوں روپ بدل کر انسان کو کبھی خوفزدہ کیا اور کبھی اپنی طرف مائل کیا، کبھی وہ ایک بوڑھی عورت بن کر سامنے آئی اور کبھی ایک شوخ و چنچل محبوبہ بن کر۔
شاعر نے اس شعر میں دنیا کی فریب کار اور پرکشش فطرت کو خوبصورت تمثیل کے ذریعے بیان کیا ہے۔ یہ دنیا انسان کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے ہر روز نئے بھیس بدلتی ہے؛ کبھی یہ ایک بوڑھی عورت بن کر رنج و الم اور موت کا ڈر پیدا کرتی ہے، تو کبھی کسی شوخ و چنچل حسینہ کی صورت اختیار کر کے دل کو موہ لیتی ہے۔ درحقیقت یہ شعر ہمیں دنیا کے اس حسن اور خوف کے جال سے ہوشیار رہنے اور اس کی ناپائیداری کو پہچاننے کی تلقین کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
