“Having drawn your sword and risen, you should not have hesitated so; for the longing in my heart was martyred merely by the blade of your delay.”
جب تم تلوار کھینچ کر اٹھ ہی کھڑے ہوئے تھے تو پھر تمہیں ہچکچانا نہیں چاہیے تھا۔ تمہاری اس تاخیر کی وجہ سے تمہارے ہاتھوں قتل ہونے کی میرے دل کی حسرت محض انتظار کی نذر ہو کر رہ گئی۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب سے ایک دلکش اور درد بھرا شکوہ کر رہا ہے۔ روایتی شاعری میں محبوب کے ہاتھوں قتل ہونا عاشق کے لیے باعثِ فخر اور دلی مراد ہوتا ہے، اس لیے وہ شوق سے وار کا منتظر تھا۔ لیکن جب محبوب تلوار سونت کر بھی جھجھک گیا، تو عاشق تڑپ اٹھا کہ اس کی حسین حسرت اصلی تلوار سے نہیں بلکہ محبوب کی تاخیر اور ہچکچاہٹ کی تیغ سے ہی مٹ گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
