غضب ہے بحر فنا کا دھارا کہ مجھ کو الجھا کے مارا مارا نفس نے موجوں کا جال بن کر لحد نے کام نہنگ ہو کر

“How dire is the tide of oblivion's sea, entangling and dashing me down— / Each breath wove a net of rising waves, the grave became a sea-monster's jaws.”

— نظم طباطبائی
معنی

فنا کے سمندر کی دھار بہت غضب ناک ہے جس نے مجھے الجھا کر ہلاک کر دیا؛ سانس نے موجوں کا جال بن دیا اور قبر مگرمچھ کے جبڑے کی مانند بن گئی۔

تشریح

شاعر نے زندگی اور موت کے فلسفے کو بحرِ فنا یعنی مٹ جانے والے سمندر کے پُراثر استعارے میں ڈھالا ہے۔ اس شعر کا اصل حسن وہ تلخ سچائی ہے کہ جو سانسیں بظاہر ہمیں زندہ رکھتی ہیں، وہی دراصل موجوں کا جال بن کر ہمیں پھنسا رہی ہیں اور آگے قبر ایک نہنگ یعنی مگرمچھ کے جبڑے کی طرح نگلنے کو تیار ہے۔ یہ شعر انسانی بے بسی کا ایک ایسا دردناک مرقع ہے جہاں جینے کا ہر لمحہ ہمیں چپکے سے موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.