ملا دل نا حفاظ مجھ کو تو کیا کسی کا لحاظ مجھ کو کہیں گریباں نہ پھاڑ ڈالیں جناب ناصح بھی تنگ ہو کر

“Gifted with a wild, unrestrained heart, why should I defer to anyone? / Lest the solemn preacher himself, driven to wit's end, tear his collar in despair.”

— نظم طباطبائی
معنی

جب مجھے ایک بے قابو اور بے باک دل ملا ہے تو مجھے کسی کا کیا لحاظ ہو۔ اندیشہ ہے کہ ناصح بھی مجھ سے تنگ آ کر اپنا ہی گریبان نہ پھاڑ ڈالیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے بے باک اور سرکش دل کی شوخی پر فخر کر رہا ہے، جسے رسم و رواج یا ناصح کے وعظ کا کوئی ڈر نہیں۔ اردو شاعری میں گریبان چاک کرنا عشق کی دیوانگی کی نشانی ہے جو عام طور پر عاشق کا شیوہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں کمال کی شگفتگی یہ ہے کہ شاعر نے پانسہ ہی پلٹ دیا؛ وہ کہتا ہے کہ میری ہٹ دھرمی دیکھ کر نصیحتیں کرنے والا ناصح خود اتنا زچ ہو جائے گا کہ غصے اور بے بسی میں اپنا ہی گریبان پھاڑ لے گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.