“Had you not shattered the looking-glass, so many Yusufs would not appear; becoming the caravan's bell, the broken mirror drew this entire caravan near.”
اگر تم آئینہ نہ توڑتے تو اتنے یوسف نظر نہ آتے؛ آئینے کا ٹوٹنا کارواں کی گھنٹی بن کر اس پورے قافلے کو یہاں کھینچ لایا ہے۔
شاعر یہاں ایک انوکھا اور دلکش منظر باندھتا ہے کہ محبوب نے جب آئینہ توڑا تو اس کے ہر کرچی میں اسی کا عکس چمک اٹھا، گویا ہر ٹکڑے سے ایک یوسف جھلکنے لگا۔ شیشے کے ٹوٹنے کی جھنکار کارواں کی گھنٹی (زنگ) بن گئی، جس نے حسن کے متلاشیوں کے پورے قافلے کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ شعر سکھاتا ہے کہ بے پناہ حسن کی شکست و ریخت بھی اس کے جلووں کو مٹاتی نہیں، بلکہ ہزار گنا بڑھا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
