غزل
آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری
آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری
یہ غزل شاعر کی بدقسمتی، محرومی اور تقدیر کے الٹ پھیر کا دلدوز احوال بیان کرتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ تسلی اور راحت کا ہر وسیلہ عین وقت پر مایوسی میں بدل کر لوٹ جاتا ہے۔ غم و اندوہ سے لبریز یہ کلام مقدر کے ستم اور گہری حسرتوں کی دردناک عکاسی کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आ के मुझ तक कश्ती-ए-मय साक़िया उल्टी फिरी
आज क्या नद्दी बही उल्टी हवा उल्टी फिरी
آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری
آج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھری
اے ساقی، شراب کا پیالہ مجھ تک پہنچ کر بھی خالی لوٹ گیا؛ کیا آج دریا الٹا بہنے لگا ہے یا ہوا کا رخ پلٹ گیا ہے؟
2
आते आते लब पर आह-ए-ना-रसा उल्टी फिरी
वो भी मेरा ही दबाने को गला उल्टी फिरी
آتے آتے لب پر آہ نارسا الٹی پھری
وہ بھی میرا ہی دبانے کو گلا الٹی پھری
میری بے اثر آہ ہونٹوں تک آتے آتے واپس پلٹ گئی، اور وہ بھی میرا ہی گلا دبانے کے لیے الٹی مڑ گئی۔
3
मुड़ के देखा उस ने और वार अबरुओं का चल गया
इक छुरी सीधी फिरी और इक ज़रा उल्टी फिरी
مڑ کے دیکھا اس نے اور وار ابرووں کا چل گیا
اک چھری سیدھی پھری اور اک ذرا الٹی پھری
اس نے مڑ کر دیکھا اور اس کی ابروؤں کا وار چل گیا، گویا ایک چھری سیدھی چلی اور دوسری ذرا الٹی پھر گئی۔
4
ला सका नज़्ज़ारा-ए-रुख़्सार-ए-रौशन की न ताब
जा के आईने पे चेहरे की ज़िया उल्टी फिरी
لا سکا نظارۂ رخسار روشن کی نہ تاب
جا کے آئینہ پہ چہرہ کی ضیا الٹی پھری
آئینہ اس روشن رخسار کے نظارے کی تاب نہ لا سکا اور چہرے کی چمک آئینے سے ٹکرا کر واپس پلٹ آئی۔
5
रास्त-बाज़ों ही को पीसा आसमाँ ने रात दिन
वा-ए-क़िस्मत जब फिरी ये आसिया उल्टी फिरी
راست بازوں ہی کو پیسا آسماں نے رات دن
وائے قسمت جب پھری یہ آسیا الٹی پھری
آسمان نے دن رات صرف سچے اور کھرے لوگوں کو ہی پیسا ہے؛ ہائے قسمت کہ جب بھی یہ چکی چلی، ہمیشہ الٹی ہی چلی۔
6
जो बड़ा बोल एक दिन बोले थे पेश आया वही
गुम्बद-ए-गर्दूं से टकरा कर सदा उल्टी फिरी
جو بڑا بول ایک دن بولے تھے پیش آیا وہی
گنبد گردوں سے ٹکرا کر صدا الٹی پھری
ایک دن جو غرور اور شیخی کی باتیں کہی گئی تھیں، آج وہی سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں؛ بالکل ویسے ہی جیسے آسمان کے گنبد سے ٹکرا کر آواز واپس پلٹ آتی ہے۔
7
रिज़्क़ खा कर ग़ैर की क़िस्मत का ज़ंबूर-ए-असल
तू ने देखा हल्क़ तक जा कर ग़िज़ा उल्टी फिरी
رزق کھا کر غیر کی قسمت کا زنبور عسل
تو نے دیکھا حلق تک جا کر غذا الٹی پھری
اے شہد کی مکھی! کسی اور کے نصیب کا رزق کھا کر کیا تو نے دیکھا کہ وہ خوراک حلق تک پہنچنے کے بعد قے ہو کر واپس پلٹ آئی؟
8
तू सताइश-गर है उस का जो है तेरा मद्ह-ख़्वाँ
ये तो ऐ मुशफ़िक़ ज़मीर-ए-मर्हबा उल्टी फिरी
تو ستائش گر ہے اس کا جو ہے تیرا مدح خواں
یہ تو اے مشفق ضمیر مرحبا الٹی پھری
تم صرف اسی کی تعریف کرتے ہو جو تمہاری تعریف کرتا ہے؛ اے مہربان دوست، یہ تو داد و تحسین کا الٹا ہی پیمانہ بن گیا ہے۔
9
जिस पर आई थी तबीअत की उसी ने कुछ न क़द्र
जिंस-ए-दिल मानिंद-ए-जिंस-ए-नारवा उल्टी फिरी
جس پر آئی تھی طبیعت کی اسی نے کچھ نہ قدر
جنس دل مانند جنس ناروا الٹی پھری
جس شخص پر میرا دل آیا تھا اسی نے میری کوئی قدر نہ کی، اور میرا دل کسی کھوٹے یا ناقابلِ فروخت مال کی طرح مسترد ہو کر واپس لوٹ آیا۔
10
या तो कुशी डूबती थी या चली साहिल से दूर
वाए नाकामी फिरी भी तो हवा उल्टी फिरी
یا تو کشی ڈوبتی تھی یا چلی ساحل سے دور
وائے ناکامی پھری بھی تو ہوا الٹی پھری
یا تو کشتی ڈوب رہی تھی یا ساحل سے دور جا رہی تھی۔ افسوس کہ ناکامی ایسی رہی کہ ہوا کا رخ بدلا بھی تو مخالف سمت میں ہی بدلا۔
11
गिरने वाला है किसी दुश्मन पे क्या तीर-ए-शहाब
आसमाँ तक जा के क्यूँ आह-ए-रसा उल्टी फिरी
گرنے والا ہے کسی دشمن پہ کیا تیر شہاب
آسماں تک جا کے کیوں آہ رسا الٹی پھری
کیا کسی دشمن پر شہابِ ثاقب کا تیر گرنے والا ہے، جو میری دور رس آہ آسمان تک جا کر واپس لوٹ آئی ہے؟
12
जी गया मैं उस के आ जाने से दुश्मन मर गया
देख कर ईसा को बालीं पर क़ज़ा उल्टी फिरी
جی گیا میں اس کے آ جانے سے دشمن مر گیا
دیکھ کر عیسیٰ کو بالیں پر قضا الٹی پھری
اس کے آ جانے سے میں دوبارہ زندہ ہو گیا اور دشمن مر گیا؛ سرہانے پر مسیحا کو دیکھ کر موت بھی الٹے پاؤں لوٹ گئی۔
13
मर गया बे-मौत मैं आख़िर अजल भी दूर है
कूचा-ए-क़ातिल का बतला कर पता उल्टी फिरी
مر گیا بے موت میں آخر اجل بھی دور ہے
کوچۂ قاتل کا بتلا کر پتا الٹی پھری
میں بالآخر بے وقت ہی مر گیا جبکہ میری طبعی موت ابھی دور تھی؛ خود موت بھی مجھے قاتل کی گلی کا راستہ بتا کر واپس لوٹ گئی۔
14
हिज्र की शब मुझ को उल्टी साँस लेते देख कर
एक ही दम में वहाँ जा कर सबा उल्टी फिरी
ہجر کی شب مجھ کو الٹی سانس لیتے دیکھ کر
ایک ہی دم میں وہاں جا کر صبا الٹی پھری
جدائی کی رات مجھے آخری سانسیں لیتے دیکھ کر، بادِ صبا ایک ہی پل میں محبوب کے پاس جا کر فوراً الٹے پاؤں واپس لوٹ آئی۔
15
है मिरा वीराना-ए-ग़म 'नज़्म' ऐसा हौल-नाक
मौज-ए-सैल आई तो ले कर बोरिया उल्टी फिरी
ہے مرا ویرانۂ غم نظمؔ ایسا ہولناک
موج سیل آئی تو لے کر بوریا الٹی پھری
اے نظم! میرے غم کی ویرانی اتنی خوفناک ہے کہ جب سیلاب کی لہر آئی تو وہ بھی اپنا بوریا سمیٹ کر واپس الٹے پاؤں لوٹ گئی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
