“Is an arrow of meteoric fire about to strike some foe, that my far-reaching sigh, having reached the heavens, now turns back below?”
کیا کسی دشمن پر شہابِ ثاقب کا تیر گرنے والا ہے، جو میری دور رس آہ آسمان تک جا کر واپس لوٹ آئی ہے؟
شاعر اپنے دل کے درد اور آہ کی بے پناہ قوت کو نہایت شاندار تمثیل کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کی پُراثر آہ آسمانوں تک رسائی پا کر یوں زمین کی طرف کیوں پلٹ رہی ہے، کہیں وہ شہابِ ثاقب کا تیر بن کر کسی رقیب یا دشمن پر بجلی بن کر گرنے تو نہیں والی؟ یہاں مظلوم عاشق کا دکھ محض فریاد نہیں رہتا، بلکہ آسمان سے پلٹ کر ایک آتشیں ہتھیار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
