“So terrifying, O Nazm, is this desolate wilderness of my grief, that even the surging flood packed its meager mat and turned back in fear.”
اے نظم! میرے غم کی ویرانی اتنی خوفناک ہے کہ جب سیلاب کی لہر آئی تو وہ بھی اپنا بوریا سمیٹ کر واپس الٹے پاؤں لوٹ گئی۔
شاعر اپنے دل کے ویرانۂ غم کی وحشت کو ایک نہایت دلکش اور پرلطف انداز میں پیش کر رہا ہے۔ سیلاب، جو بستیوں کو غرق کرنے اور اجاڑنے آتا ہے، جب عاشق کے غم زدہ ویرانے میں داخل ہوا تو اس کی تاریکی اور دہشت دیکھ کر خود سہم گیا۔ وہ وہاں تباہی مچانے کے بجائے خوف کے مارے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر الٹے پاؤں بھاگ نکلا، جو ظاہر کرتا ہے کہ شاعر کا دکھ دنیا کی بڑی سے بڑی آفت سے بھی کہیں زیادہ مہیب ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
