آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری آج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھری

“Reaching right up to me, O Cupbearer, the boat of wine turned back; Did the river flow upstream today, or did the wind reverse its track?”

— نظم طباطبائی
معنی

اے ساقی، شراب کا پیالہ مجھ تک پہنچ کر بھی خالی لوٹ گیا؛ کیا آج دریا الٹا بہنے لگا ہے یا ہوا کا رخ پلٹ گیا ہے؟

تشریح

شاعر نے یہاں شراب کے جام کو ایک کشتی سے تشبیہ دی ہے جو محفل کے دریا میں سب تک پہنچتی ہے مگر عین اس کے کنارے آ کر پلٹ جاتی ہے۔ اپنی محرومی اور بدقسمتی پر وہ ساقی سے بڑی شوخی اور شکوے کے ساتھ پوچھتا ہے کہ کیا آج دریا الٹا بہہ نکلا ہے یا ہواؤں کا رخ بدل گیا ہے؟ یہ شعر تشنہ کامی کے اس درد کو بیان کرتا ہے جہاں منزل اور خوشی بالکل قریب آ کر بھی ہاتھ نہیں آتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 15Next →