“Reaching right up to me, O Cupbearer, the boat of wine turned back; Did the river flow upstream today, or did the wind reverse its track?”
اے ساقی، شراب کا پیالہ مجھ تک پہنچ کر بھی خالی لوٹ گیا؛ کیا آج دریا الٹا بہنے لگا ہے یا ہوا کا رخ پلٹ گیا ہے؟
شاعر نے یہاں شراب کے جام کو ایک کشتی سے تشبیہ دی ہے جو محفل کے دریا میں سب تک پہنچتی ہے مگر عین اس کے کنارے آ کر پلٹ جاتی ہے۔ اپنی محرومی اور بدقسمتی پر وہ ساقی سے بڑی شوخی اور شکوے کے ساتھ پوچھتا ہے کہ کیا آج دریا الٹا بہہ نکلا ہے یا ہواؤں کا رخ بدل گیا ہے؟ یہ شعر تشنہ کامی کے اس درد کو بیان کرتا ہے جہاں منزل اور خوشی بالکل قریب آ کر بھی ہاتھ نہیں آتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
