یا تو کشی ڈوبتی تھی یا چلی ساحل سے دور وائے ناکامی پھری بھی تو ہوا الٹی پھری

“Either the boat was sinking or drifting far from the shore; Alas, what despair! Even when the wind turned, it turned adverse once more.”

— نظم طباطبائی
معنی

یا تو کشتی ڈوب رہی تھی یا ساحل سے دور جا رہی تھی۔ افسوس کہ ناکامی ایسی رہی کہ ہوا کا رخ بدلا بھی تو مخالف سمت میں ہی بدلا۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں انسانی زندگی اور مقدر کو منجدھار میں پھنسی ایک ناچار کشتی سے تشبیہ دی ہے، جو ساحل سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب قسمت پلٹنے کی ذرا سی امید پیدا ہوئی اور ہوا کا رخ بدلا، تو وہ بھی مخالف سمت میں چلی اور کشتی کو منزل سے مزید دور دھکیل دیا۔ یہ شعر اس گہری بے بسی اور مایوسی کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں امید کی ہر کرن بھی انسان کے خلاف کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.