“Night and day, the heavens crushed none but the righteous and the true; alas, such fate! Whenever this millstone turned, in reverse it turned askew.”
آسمان نے دن رات صرف سچے اور کھرے لوگوں کو ہی پیسا ہے؛ ہائے قسمت کہ جب بھی یہ چکی چلی، ہمیشہ الٹی ہی چلی۔
اس شعر میں شاعر نے گردشِ آسماں کو ایک ایسی بے رحم چکی سے تشبیہ دی ہے جو ہمیشہ الٹی چلتی ہے۔ صدمہ اور افسوس اس بات کا ہے کہ اس چکی کے پاٹوں میں کوئی اور نہیں، بلکہ ہمیشہ سچے اور کھرے لوگ ہی پس کر رہ جاتے ہیں۔ یہ تقدیر کی ستم ظریفی کا ایک درد بھرا شکوہ ہے کہ دنیا میں راستی اور نیکی کا صلہ اکثر آزمائش بن کر ملتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
