“You lavish praise on one who sings your praise in turn; / O kindly friend, the sense of 'well done' has turned around!”
تم صرف اسی کی تعریف کرتے ہو جو تمہاری تعریف کرتا ہے؛ اے مہربان دوست، یہ تو داد و تحسین کا الٹا ہی پیمانہ بن گیا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے باہمی خوشامد اور جھوٹی تعریف کے لین دین پر بڑی خوبصورت چوٹ کی ہے۔ سچی داد تو ہنر اور جوہر کو ملنی چاہیے، مگر یہاں سارا چکر ہی یہ بن چکا ہے کہ تم میری تعریف کرو اور میں تمہاری۔ شاعر درد اور ظرافت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اے دوست، اس خود غرضی نے تو داد و تحسین (مرحبا) کے پورے مفہوم کو ہی الٹا کر کے رکھ دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
