رزق کھا کر غیر کی قسمت کا زنبور عسل تو نے دیکھا حلق تک جا کر غذا الٹی پھری

“Having fed upon the sustenance fated for another, O honeybee, did you see how the food, reaching the throat, was turned back?”

— نظم طباطبائی
معنی

اے شہد کی مکھی! کسی اور کے نصیب کا رزق کھا کر کیا تو نے دیکھا کہ وہ خوراک حلق تک پہنچنے کے بعد قے ہو کر واپس پلٹ آئی؟

تشریح

شاعر یہاں زنبورِ عسل یعنی شہد کی مکھی کے فطری عمل کو ایک خوبصورت اخلاقی پیرائے میں پیش کر رہے ہیں۔ مکھی جو رس جمع کرتی ہے، وہ اس کے اپنے وجود کی غذا بننے کے بجائے شہد کی صورت میں حلق سے واپس پلٹ آتا ہے۔ اس تمثیل کے پردے میں یہ دانائی چھپی ہے کہ جو رزق کسی اور کے مقدر کا ہو، وہ انسان کو کبھی راس نہیں آ سکتا اور قدرت بالآخر اسے واپس لوٹا دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.