“Just as it reached my lips, my futile sigh turned back — it turned back only to choke my own throat.”
میری بے اثر آہ ہونٹوں تک آتے آتے واپس پلٹ گئی، اور وہ بھی میرا ہی گلا دبانے کے لیے الٹی مڑ گئی۔
یہ شعر بے بسی اور دبے ہوئے درد کی انتہا کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دل سے اٹھنے والی ناامید آہ ہونٹوں تک تو پہنچی، مگر فریاد بننے کے بجائے پلٹ کر خود اسی کا گلا گھونٹنے لگی۔ یعنی جب انسان کا اپنا غم بھی اظہار کا راستہ نہ پا سکے، تو وہی ان کہی گھٹن پلٹ کر اس کے اپنے ہی وجود کے لیے جان لیوا بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
