جس پر آئی تھی طبیعت کی اسی نے کچھ نہ قدر جنس دل مانند جنس ناروا الٹی پھری

“The very one my heart was set upon held it in no esteem; like spurned and worthless merchandise, the heart returned unsold.”

— نظم طباطبائی
معنی

جس شخص پر میرا دل آیا تھا اسی نے میری کوئی قدر نہ کی، اور میرا دل کسی کھوٹے یا ناقابلِ فروخت مال کی طرح مسترد ہو کر واپس لوٹ آیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبت میں ملنے والی بے رخی کو بازار اور تجارت کے ایک دردناک استعارے سے بیان کیا ہے۔ جس محبوب پر دل آیا اور جس سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ تھیں، اسی نے اس خلوص کی ذرا قدر نہ کی۔ دل کا نذرانہ اس کھوٹے اور ناکارہ مال کی طرح رد ہو کر واپس لوٹ آیا جسے منڈی میں کوئی خریدار نہ ملا ہو، اور یہی احساسِ تذلیل اس شعر کا اصل المیہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.