“Seeing me draw my dying breath upon the night of separation, in a single breath the breeze flew to her and returned in haste.”
جدائی کی رات مجھے آخری سانسیں لیتے دیکھ کر، بادِ صبا ایک ہی پل میں محبوب کے پاس جا کر فوراً الٹے پاؤں واپس لوٹ آئی۔
اس شعر میں شاعر نے ہجر کی اذیت میں اپنی آخری سانسوں کی نہایت پردرد اور خوبصورت تصویر کشی کی ہے۔ جدائی کے عالم میں جب عاشق کی جان کنی کی حالت ہوئی اور الٹی سانسیں چلنے لگیں، تو بادِ صبا پیامبر بن کر تڑپ اٹھی اور ایک ہی دم میں محبوب کے در پر جا کر فوراً پلٹ آئی۔ یہاں 'الٹی سانس' اور 'الٹی پھری' کی خوبصورت رعایتِ لفظی یہ بتاتی ہے کہ ہوا بھی عاشق کے دم توڑنے سے پہلے محبوب کی خوشبو یا کوئی تسلی لانے کے لیے کس قدر سراسیمہ اور بیتاب تھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
