مر گیا بے موت میں آخر اجل بھی دور ہے کوچۂ قاتل کا بتلا کر پتا الٹی پھری

“I died an untimely death, though destined Death was still afar; pointing the way to the slayer's lane, Death itself turned back.”

— نظم طباطبائی
معنی

میں بالآخر بے وقت ہی مر گیا جبکہ میری طبعی موت ابھی دور تھی؛ خود موت بھی مجھے قاتل کی گلی کا راستہ بتا کر واپس لوٹ گئی۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں محبوب کے ستم کو بڑے دلکش اور شوخ انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری قدرتی موت تو ابھی بہت دور تھی، مگر میں پھر بھی بے وقت مارا گیا۔ ہوا یوں کہ خود اجل مجھے میرے محبوب یعنی قاتل کی گلی کا پتا بتا کر واپس لوٹ گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عشق کے ہاتھوں میری جان لینا اس کے اپنے بس سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.