“The boastful words I spoke one day have returned to face me now; crashing against the dome of heaven, the echo rebounded back.”
ایک دن جو غرور اور شیخی کی باتیں کہی گئی تھیں، آج وہی سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں؛ بالکل ویسے ہی جیسے آسمان کے گنبد سے ٹکرا کر آواز واپس پلٹ آتی ہے۔
اس خوبصورت شعر میں شاعر غرور اور مکافاتِ عمل کی حقیقت کو بڑے موثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے آسمان کو ایک وسیع گنبد سے تشبیہ دی ہے، جہاں تکبر میں کہا گیا بڑا بول کبھی گم نہیں ہوتا بلکہ بازگشت بن کر خود بولنے والے کے ہی روبرو آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا نظام ایسا ہے کہ انسان کے اپنے دعوے ہی وقت آنے پر اس کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
