“Her arrival brought me back to life, and struck the rival dead; seeing the Messiah at my pillow, Death turned around and fled.”
اس کے آ جانے سے میں دوبارہ زندہ ہو گیا اور دشمن مر گیا؛ سرہانے پر مسیحا کو دیکھ کر موت بھی الٹے پاؤں لوٹ گئی۔
اس شعر میں محبوب کے وصال کی معجزاتی طاقت اور رقیب کی جلن کو بڑے پرلطف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر نے اپنے محبوب کو حضرت عیسیٰؑ سے تشبیہ دی ہے، جن کا وجود بیمار کو شفا اور مردے کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ محبوب کو اپنے سرہانے دیکھ کر عاشق جی اٹھتا ہے اور موت خود الٹے پاؤں لوٹ جاتی ہے، جبکہ عاشق کو سلامت دیکھ کر دشمن حسد کی آگ میں جل کر مر جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
