غزل

वैसा कहाँ है हम से जैसा कि आगे था तू

वैसा कहाँ है हम से जैसा कि आगे था तू
میر تقی میر· Ghazal· 14 shers

یہ غزل ایک ایسے رشتے کی خامی پر بات کرتی ہے جو وقت کے ساتھ بدل گیا ہے۔ شاعر محسوس کرتا ہے کہ محبوب پہلے جیسا نہیں رہا اور اس کا دلکشی بھی کم ہو گئی ہے۔ یہ ماضی کی میٹھی یادوں اور حال کی دوری کے درمیان جذباتی کشمکش کو بیان کرتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
वैसा कहाँ है हम से जैसा कि आगे था तू औरों से मिल के प्यारे कुछ और हो गया तू
ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو
تم ہم سے ویسے نہیں رہے جیسے پہلے تھے؛ پیارے، دوسروں سے مل کر تم کچھ اور ہو گئے ہو۔
2
चालें तमाम बे-ढब बातें फ़रेब हैं सब हासिल कि ऐ शुक्र लब अब वो नहीं रहा तू
چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سب حاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو
یہ ساری بے ڈھب باتیں اور باتیں فریب ہیں سب، شکر ہے اے لب کہ اب وہ نہیں رہا تُو۔
3
जाते नहीं उठाए ये शोर हर सहर के या अब चमन में बुलबुल हम ही रहेंगे या तू
جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہر سحر کے یا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو
یہ شور ہر سحر کے اٹھنے پر نہیں جاتا، یا اب چمن میں بلبل ہم رہیں گے یا تم۔
4
आ अब्र एक दो दम आपस में रखें सोहबत कुढ़ने को हूँ मैं आँधी रोने को है बला तू
آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت کڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو
اے ابر، ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت، کڑنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ اے بادل، تھوڑی دیر کے لیے ساتھ رہو، کیونکہ میں ایک آندھی ہوں جو رونے اور برسنے کے لیے تیار ہے۔
5
तक़रीब पर भी तो तू पहलू तही करे है दस बार 'ईद आई कब कब गले मिला तू
تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہے دس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو
شاعِر کہتا ہے کہ قریباً پر بھی تو تُو پہلو تہی کرے ہے، دس بار 'عید آئی کب کب گلے ملا تُو۔ شاعِر کہہ رہا ہے کہ تم اندازے پر بھی میرے ساتھ ہی رہتی ہو، اور یہ بھی کہ عید کئی بار آئی، لیکن تم مجھ سے گلے نہیں ملی۔
6
तेरे दहन से उस को निस्बत हो कुछ तो कहिए गुल गो करे है दा'वा ख़ातिर में कुछ न ला तू
تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے گل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو
تیرے دَھن سے اُس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے، گل گو کرے ہے دا‘وا خاतिर میں کچھ نہ لا تو۔ (معنی: اُسے کہہ دینا کہ تمہارے جلنے سے اس کا مجھ سے کوئی رشتہ ہو، اور اگر تم میرے لیے کچھ نہیں لاتے ہو، تو یہ دعویٰ نہ کرنا।)
7
दिल क्यूँके रास्त आवे दावा-ए-आश्नाई दरिया-ए-हुस्न वो मह-ए-कश्ती-ब-कफ़ गदा तू
دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائی دریائے حسن وہ مہ کشتی بکف گدا تو
دل کیوں کے راست آوے دعویے-ئے-آشنائی دریا-ئے-حسن وہ مح-اے-کشتی-ب-کف گدا تُو
8
हर फ़र्द यास अभी से दफ़्तर है तुझ गले का है क़हर जब कि होगा हर्फ़ों से आश्ना तू
ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کا ہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو
ہر فرد یاس ابھی سے دفتَر ہے تجھ گلے کا / ہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو
9
'आलम है शौक़-कुश्ता ख़िल्क़त है तेरी रफ़्ता जानों की आरज़ू तू आँखों का मुद्द'आ तू
عالم ہے شوق کشتہ خلقت ہے تیری رفتہ جانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو
تُو کا جہاں ہی فنِ تخلیق کا میدانِ جنگ ہے، اور تیری رفتار، اے تو! تو روحوں کی آرزو ہے اور آنکھوں کی مُدعا ہے۔
10
मुँह करिए जिस तरफ़ को सो ही तिरी तरफ़ है पर कुछ नहीं है पैदा कीधर है ऐ ख़ुदा तू
منہ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہے پر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو
جس طرف منہ کرو، وہ سمت تیری ہی ہے، اے محبوب، مگر سچ ہے کہ کہیں بھی کچھ پیدا نہیں ہوا، اے خدا تو۔
11
आती ब-ख़ुद नहीं है बाद-ए-बहार अब तक दो गाम था चमन में टक नाज़ से चला तू
آتی بہ خود نہیں ہے باد بہار اب تک دو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو
بہار کی ہوا ابھی خود بخود نہیں آ رہی ہے، اور تم چمن میں اتنی نفاست سے چلے گئے۔
12
कम मेरी और आना कम आँख का मिलाना करने से ये अदाएँ है मुद्द'आ कि जा तू
کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا کرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو
کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا کرنے سے یہ ادائیں ہیں مُدّعا کہ جا تُو۔ (مطلب: میری کم موجودگی، تمہارا کم آنا، اور آنکھوں کا کم ملنا کرنے سے یہ ادائیں ہیں مُدّعا کہ جا تُو۔)
13
गुफ़्त-ओ-शुनूद अक्सर मेरे तिरे रहे है ज़ालिम मु'आफ़ रखियो मेरा कहा-सुना तू
گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہے ظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو
گُفت و شُنود سے مراد باتیں اور خاموشی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے اکثر یہ دونوں چیزیں برداشت کی ہیں، اور ظالم سے گزارش کرتا ہے کہ وہ اس کے کہے ہوئے الفاظ کو محفوظ رکھے۔
14
कह साँझ के मूए को ऐ 'मीर' रोएँ कब तक जैसे चराग़-ए-मुफ़्लिस इक-दम में जल बुझा तू
کہہ سانجھ کے موئے کو اے میرؔ روئیں کب تک جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو
اے میر، شام کے بوسوں کے لیے رونا کب تک؟ جیسے ایک مفلس چراغ، ایک دم میں بجھ گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.