غزل

उल्टी हो गईं सब तदबीरें कुछ न दवा ने काम किया

उल्टी हो गईं सब तदबीरें कुछ न दवा ने काम किया
میر تقی میر· Ghazal· 15 shers

یہ غزل اس مایوسی اور بے بسی کو بیان کرتی ہے کہ جب تمام تدابیر اور ادویات ناکام ہو جاتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ دل کی بیماری نے سب کچھ ختم کر دیا، और जीवन की कठिनाइयों کے سبب انہیں مجبوراً درد سہنا پڑا۔

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
उल्टी हो गईं सब तदबीरें कुछ न दवा ने काम किया देखा इस बीमारी-ए-दिल ने आख़िर काम तमाम किया
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
تمام تدابیر بے اثر ہو گئیں، کوئی دوا کام نہ آئی، اس دل کی بیماری نے آخر کار اپنا کام تمام کر دیا۔
2
अहद-ए-जवानी रो रो काटा पीरी में लीं आँखें मूँद या'नी रात बहुत थे जागे सुब्ह हुई आराम किया
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
جوانگی کے بستر میں روتے ہوئے آنکھیں موند لیں، گویا پوری رات جاگ کر گزاری ہو اور صبح ہونے پر آرام کیا۔
3
हर्फ़ नहीं जाँ-बख़्शी में उस की ख़ूबी अपनी क़िस्मत की हम से जो पहले कह भेजा सो मरने का पैग़ाम किया
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
جان بخشش کی مہربانی میں میری اپنی قسمت کی خوبی نہیں ہے؛ جو ہم سے پہلے کہہ دیا گیا، وہ مرنے کا پیغام تھا۔
4
नाहक़ हम मजबूरों पर ये तोहमत है मुख़्तारी की चाहते हैं सो आप करें हैं हम को अबस बदनाम किया
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
یہ جھوٹا الزام ہے کہ ہم مجبوروں پر آزادی کا الزام لگاتے ہیں۔ آپ جو چاہتے ہیں، اس وجہ سے آپ نے ہمیں بدنام کیا ہے۔
5
सारे रिंद औबाश जहाँ के तुझ से सुजूद में रहते हैं बाँके टेढ़े तिरछे तीखे सब का तुझ को इमाम किया
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سارے رند آوباش جہاں کے तुझ سے سجدے میں رہتے ہیں، باںکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا तुझ کو امام کیا۔ (مطلب: دنیا کے تمام لوگ، چاہے وہ خوشبودار ہوں یا گھٹیا، تجھ سے ہی دعا میں رہتے ہیں؛ اور جو لوگ ٹیڑھے، ترچھے یا تیز طبع ہیں، وہ سب تجھ سے ہی امام (رہنما) ہوئے ہیں۔)
6
सरज़द हम से बे-अदबी तो वहशत में भी कम ही हुई कोसों उस की ओर गए पर सज्दा हर हर गाम किया
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
سرزَد سے ہم کو بےادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی؛ کوسوں اس کی طرف گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا۔ (یعنی، سرزَد کا مجرمانہ رویہ تو جنگل میں بھی کم تھا، مگر میں اس کی طرف میلوں تک گیا، پر ہر قدم پر جھک گیا۔)
7
किस का काबा कैसा क़िबला कौन हरम है क्या एहराम कूचे के उस के बाशिंदों ने सब को यहीं से सलाम किया
کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
شاعر پوچھ رہا ہے کہ کس کا کعبہ، کیسا قبلہ، کون سا حرم اور کیا احرام ہے؟ جواب ملا کہ اس گلی کے باشندوں نے سب کو یہاں سے سلام کیا ہے۔
8
शैख़ जो है मस्जिद में नंगा रात को था मय-ख़ाने में जुब्बा ख़िर्क़ा कुर्ता टोपी मस्ती में इनआ'म किया
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مے خانے میں جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
وہ شیخ جو رات کو مسجد میں ننگا تھا، وہ مے خانے میں جوبہ، خِرقہ، کُرتا اور ٹوپی پہنے ہوئے مست تھا۔
9
काश अब बुर्क़ा मुँह से उठा दे वर्ना फिर क्या हासिल है आँख मुँदे पर उन ने गो दीदार को अपने आम किया
کاش اب برقعہ منہ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
شاعؔر کہتا ہے کہ کاش نقاب منہ سے اٹھ جائے، ورنہ کیا حاصل ہے؟ کیونکہ آنکھوں کے لیے انہوں نے دیدارِ محبوب کو اپنی مرضی پر آماں کیا ہے۔
10
याँ के सपीद ओ सियह में हम को दख़्ल जो है सो इतना है रात को रो रो सुब्ह किया या दिन को जूँ तूँ शाम किया
یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
تمہارے سفید اور کالے رنگ کے عشق میں، میرا داخلہ بس اتنا ہے: یا رات کو رو رو کر صبح کروں، یا دن کو گزار کر شام کروں.
11
सुब्ह चमन में उस को कहीं तकलीफ़-ए-हवा ले आई थी रुख़ से गुल को मोल लिया क़ामत से सर्व ग़ुलाम किया
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
صبح کے چمن میں اُسے کہیں تک تکلیفِ ہوا لے آئی تھی، رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سر و غم غلام کیا۔
12
साअद-ए-सीमीं दोनों उस के हाथ में ला कर छोड़ दिए भूले उस के क़ौल-ओ-क़सम पर हाए ख़याल-ए-ख़ाम किया
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیئے بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
صادِ سیمین، وہ دونوں چیزیں جو میں تمہارے ہاتھوں میں لایا، تم نے چھوڑ دیں؛ اور تمہاری قسم و عہد پر تم نے میرے خیالوں کو دھوکہ دیا۔
13
काम हुए हैं सारे ज़ाएअ' हर साअ'त की समाजत से इस्तिग़्ना की चौगुनी उन ने जूँ जूँ मैं इबराम किया
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
میرے سارے کام ہر سَاعت کی صحبت سے ضائع ہو گئے، کیونکہ جب بھی میں نے عبادت کی، انہوں نے چار گنا زیادہ ترک کیا۔
14
ऐसे आहु-ए-रम-ख़ुर्दा की वहशत खोनी मुश्किल थी सेहर किया ए'जाज़ किया जिन लोगों ने तुझ को राम किया
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
ایسے آہوں-ए-رَم-خردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی، اور جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا، انہوں نے ایسا سحر اور ا'جیز کیا।
15
'मीर' के दीन-ओ-मज़हब को अब पूछते क्या हो उन ने तो क़श्क़ा खींचा दैर में बैठा कब का तर्क इस्लाम किया
میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
شاعر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو اُن نے تو قشقا کھینچا دائر میں بیٹھا کب کا نطق اسلام کیا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.