“All the fragrant and the base, everywhere, in your prostration, they dwell; all the crooked, the slanted, the sharp, all are made Imam by you.”
سارے رند آوباش جہاں کے तुझ سے سجدے میں رہتے ہیں، باںکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا तुझ کو امام کیا۔ (مطلب: دنیا کے تمام لوگ، چاہے وہ خوشبودار ہوں یا گھٹیا، تجھ سے ہی دعا میں رہتے ہیں؛ اور جو لوگ ٹیڑھے، ترچھے یا تیز طبع ہیں، وہ سب تجھ سے ہی امام (رہنما) ہوئے ہیں۔)
یہ شعر روحانیت کے عالم کو بیان کرتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ دنیا کے ہر قسم کے لوگ، چاہے وہ جنونی ہوں یا عاجز، سب کو سجدے میں سکون ملتا ہے۔ ہر ایک کا آخری ٹھکانہ، ہر ایک کی پیروی، صرف خدا کی طرف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
