“Whose Kaaba, what Qibla, which Haram is it? What Ihram is it? The inhabitants of that street greeted everyone from here.”
شاعر پوچھ رہا ہے کہ کس کا کعبہ، کیسا قبلہ، کون سا حرم اور کیا احرام ہے؟ جواب ملا کہ اس گلی کے باشندوں نے سب کو یہاں سے سلام کیا ہے۔
یہ شعر ظاہری رسومات اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ کاعبہ کیا ہے، قِبلہ کیا ہے، یہ حرم کیا ہے؟ مگر پھر وہ حقیقت بتاتے ہیں کہ اس گلی کے باسیوں نے سب کو بس 'یہی سے سلام' کیا ہے۔ اصل عبادت تو انسانوں کی محبت میں ہے، نہ کہ کسی جگہ کے نام میں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
