Sukhan AI
غزل

आह-ए-सहर ने सोज़िश-ए-दिल को मिटा दिया

आह-ए-सहर ने सोज़िश-ए-दिल को मिटा दिया
میر تقی میر· Ghazal· 15 shers

سحر کی آہ نے دل کی سوزش کو مٹا دیا۔ یہ غزل بتاتی ہے کہ کس طرح صبح کی ٹھنڈی ہوا اور وقت کا گزرنا دل کے گہرے زخموں اور شدید جذبات کو بھی سکون بخشتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی کے دکھ اور عشق کی آتشی شدت، وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے ختم ہو جاتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आह-ए-सहर ने सोज़िश-ए-दिल को मिटा दिया उस बाव ने हमें तो दिया सा बुझा दिया
آہِ سحر نے سोज़شِ دل کو مٹا دیا؛ / اس دیوانے نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا۔
3
पोशीदा राज़-ए-'इश्क़ चला जाए था सौ आज बे-ताक़ती ने दिल की वो पर्दा उठा दिया
محبت کا وہ پوشیدہ راز جو سو دن تک چھپا ہوا تھا، دل کی کمزوری نے اسے ظاہر کر دیا۔
5
थी लाग उस की तेग़ को हम से सौ 'इश्क़ ने दोनों को मा'रके में गले से मिला दिया
شاعر کہتا ہے کہ اس کی کرم کی وجہ سے، عشق نے ہمیں اور اس کو زخمی کرکے بھی گلے لگا لیا۔
7
आवारगान-ए-इश्क़ का पूछा जो मैं निशाँ मुश्त-ए-ग़ुबार ले के सबा ने उड़ा दिया
جب میں نے عشق کے گیت کا نشان پوچھا، تو صبح کی ہوا نے مٹھی بھر دھول سے اسے اڑا دیا۔
9
क्या कुछ न था अज़ल में न ताला जो थे दुरुस्त हम को दिल-ए-शिकस्ता क़ज़ा ने दिला दिया
اس کا مطلب ہے کہ ازل میں کچھ بھی نہیں تھا، کوئی بھی تالا جو مضبوط ہو؛ یہ دلِ شِکستہ کا ملنا قज़ा نے ہمیں دلوا دیا۔
10
गोया मुहासबा मुझे देना था 'इश्क़ का उस तौर दिल सी चीज़ को मैं ने लगा दिया
شایع کہتا ہے کہ جیسے اسے عشق کا حساب دینا تھا، اس لیے اس نے اپنے دل کی چیز کسی اور چیز میں لگا دی۔
11
मुद्दत रहेगी याद तिरे चेहरे की झलक जल्वे को जिस ने माह के जी से भुला दिया
تیری چہرے کی جھلک کی یاد بہت دیر تک رہے گی، اس جادو کے لیے جس نے مجھے گزرتے مہینوں کا احساس دلایا۔
12
हम ने तो सादगी से किया जी का भी ज़ियाँ दिल जो दिया था सो तो दिया सर जुदा दिया
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں۔ دل جو دیا تھا وہ تو دیا، سر جو جدا دیا وہ بھی دیا۔
13
बोई कबाब सोख़्ता आई दिमाग़ में शायद जिगर भी आतिश-ए-ग़म ने जिला दिया
کباب کی خوشبو دماغ میں پھیل گئی، اور شاید میرے جگر کو بھی آتشِ غم نے زندہ کر دیا۔
14
तकलीफ़ दर्द-ए-दिल की 'अबस हम-नशीं ने की दर्द-ए-सुख़न ने मेरे सभों को रुला दिया
تکلیف درد-ے-دل کی 'اباس ہم-نشیں نے کی، / درد-ے-سخن نے میرے سبوں کو رلا دیا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ دل کا درد ہمنشیں (ساتھی) نے دیا، اور شاعری (نظم) کے درد نے ہم سب کو رونے پر مجبور کر دیا ہے۔
15
उन ने तो तेग़ खींची थी पर जी चला के 'मीर' हम ने भी एक दम में तमाशा दिखा दिया
اُن لوگوں نے تو بہت تیاری کی تھی، پر 'میر' نے اپنی شاعری سے فوراً ایک بڑا تماشا بنا دیا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

आह-ए-सहर ने सोज़िश-ए-दिल को मिटा दिया | Sukhan AI