आवारगान-ए-इश्क़ का पूछा जो मैं निशाँ
मुश्त-ए-ग़ुबार ले के सबा ने उड़ा दिया
“When I asked for the trace of the song of love, The morning breeze scattered it with a handful of dust.”
— میر تقی میر
معنی
جب میں نے عشق کے گیت کا نشان پوچھا، تو صبح کی ہوا نے مٹھی بھر دھول سے اسے اڑا دیا۔
تشریح
یہ شعر عشق کی فانی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر ہوا سے اپنے عشق کے نشان پوچھتے ہیں، مگر ہوا، دھول کے ساتھ، ان تمام یادوں کو مٹا دیتی ہے۔ یہ کیفیت ہے کہ محبت کے نشانات کتنے عارضی ہوتے ہیں۔
