غزل

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میر تقی میر· Ghazal· 14 shers· radif: कर चले

میر تقی میرؔ کی یہ پردرد غزل ایک عاشق کے بے لوث جذبے اور الوداعی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے، جو درویش بن کر محبوب کو خوشیوں کی دعا دیتے ہوئے رخصت ہو رہا ہے۔ اس میں محبوب کے بغیر نہ جینے کے عہد کو وفا کرتے ہوئے جان کی بازی ہارنے کا گہرا ملال اور سوز و گداز نمایاں ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
फ़क़ीराना आए सदा कर चले कि म्याँ ख़ुश रहो हम दुआ कर चले
فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
ہم درویشوں کی طرح آئے، صدا لگائی اور رخصت ہو گئے؛ ہم بس یہ دعا دے کر چل دیے کہ اے میاں، تم ہمیشہ خوش رہو۔
2
जो तुझ बिन न जीने को कहते थे हम सो इस अहद को अब वफ़ा कर चले
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
ہم جو کبھی تمہارے بغیر نہ جینے کا دعویٰ کرتے تھے، اب جان دے کر اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں۔
3
शिफ़ा अपनी तक़दीर ही में न थी कि मक़्दूर तक तो दवा कर चले
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
صحت یابی ہماری قسمت میں ہی نہیں تھی، ورنہ جہاں تک ہمارے بس میں تھا ہم نے ہر ممکن علاج کیا۔
4
पड़े ऐसे अस्बाब पायान-ए-कार कि नाचार यूँ जी जला कर चले
پڑے ایسے اسباب پایان کار کہ ناچار یوں جی جلا کر چلے
آخر کار ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ہم مجبور ہو کر اپنا دل جلاتے ہوئے چلے گئے۔
5
वो क्या चीज़ है आह जिस के लिए हर इक चीज़ से दिल उठा कर चले
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
افسوس، وہ کون سی ایسی چیز ہے جس کی خاطر ہم ہر ایک شے سے دل بیزار کر کے چل دیے۔
6
कोई ना-उमीदाना करते निगाह सो तुम हम से मुँह भी छुपा कर चले
کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ سو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے
کاش تم کم از کم مایوسی بھری ایک نظر ہی ہم پر ڈال لیتے، مگر تم تو ہم سے اپنا منہ بھی چھپا کر چلے گئے۔
7
बहुत आरज़ू थी गली की तिरी सो याँ से लहू में नहा कर चले
بہت آرزو تھی گلی کی تری سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے
ہمیں تمہاری گلی میں آنے کی بہت آرزو تھی، سو اب ہم یہاں سے خون میں نہا کر جا رہے ہیں۔
8
दिखाई दिए यूँ कि बे-ख़ुद किया हमें आप से भी जुदा कर चले
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
آپ اس طرح سامنے آئے کہ مجھے بے خود کر دیا، اور رخصت ہوتے ہوئے مجھے اپنے آپ سے بھی جدا کر گئے۔
9
जबीं सज्दा करते ही करते गई हक़-ए-बंदगी हम अदा कर चले
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی حق بندگی ہم ادا کر چلے
مسلسل سجدے کرتے کرتے میری پیشانی گھس گئی، اور ہم بندگی کا حق ادا کر کے جا رہے ہیں۔
10
परस्तिश की याँ तक कि ऐ बुत तुझे नज़र में सभों की ख़ुदा कर चले
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
اے بت (محبوب)، میں نے تیری اس حد تک پرستش کی کہ جاتے جاتے سب کی نظروں میں تجھے خدا بنا دیا۔
11
झड़े फूल जिस रंग गुलबुन से यूँ चमन में जहाँ के हम आ कर चले
جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں چمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے
جس طرح گلاب کے پودے سے پھول جھڑ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم بھی اس دنیا کے باغ میں آئے اور رخصت ہو گئے۔
12
न देखा ग़म-ए-दोस्ताँ शुक्र है हमीं दाग़ अपना दिखा कर चले
نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے
شکر کا مقام ہے کہ مجھے دوستوں کا غم نہیں دیکھنا پڑا، میں بس اپنے ہی زخم دکھا کر رخصت ہو گیا۔
13
गई उम्र दर-बंद-ए-फ़िक्र-ए-ग़ज़ल सो इस फ़न को ऐसा बड़ा कर चले
گئی عمر در بند فکر غزل سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے
ساری عمر غزل کہنے کی فکر اور ریاضت میں گزر گئی، اس لیے اب ہم اس فن کو اتنا بلند اور عظیم بنا کر یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔
14
कहें क्या जो पूछे कोई हम से 'मीर' जहाँ में तुम आए थे क्या कर चले
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
اے میر! اگر ہم سے کوئی یہ پوچھ لے کہ تم دنیا میں آئے تھے تو کیا کام کر کے جا رہے ہو، تو ہم کیا جواب دیں گے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

فقیرانہ آئے صدا کر چلے | Sukhan AI