“Such circumstances befell at the end of it all, that helpless, burning our very hearts in grief, we departed.”
آخر کار ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ہم مجبور ہو کر اپنا دل جلاتے ہوئے چلے گئے۔
یہ شعر بے بسی اور مجبوری کے اس کربناک موڑ کو سامنے لاتا ہے جہاں حالات انسان کے لیے سب کچھ چھوڑ کر رخصت ہو جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑتے۔ 'جی جلا کر' کا استعارہ دل کے اندر سلگتی ہوئی اس بے بس تڑپ کو ظاہر کرتا ہے جسے انسان ضبط کی انتہا پر سہتا ہے۔ انجامِ کار، تقدیر اور گردشِ ایام نے ایسا گھیرا کہ اپنی ہی تمناؤں کے ماتم میں خاموشی سے جلتے ہوئے وہاں سے نکل جانا پڑا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
